Yılmaz Güney

Yılmaz Güney

فلم ہدایت کار · ۴۷ سال کی عمر میں انتقال ہوا

پروفائل

عمر۴۷ سال کی عمر میں انتقال ہوا
تاریخ پیدائش۱ اپریل ۱۹۳۷
جائے پیدائشYenice, Adana
مر گیا۔۹ ستمبر ۱۹۸۴
پیشہفلم ہدایت کار, اداکار, اسکرین رائٹر, فلم ایڈیٹر
Zodiac signAries
Real nameYılmaz Pütün
EducationAnkara Üniversitesi Hukuk Fakültesi (yarım), İstanbul Üniversitesi İktisat Fakültesi
SpouseFatoş Güney
Eski EşiNebahat Çehre
Ölüm YeriParis, Fransa

Yılmaz Güney - سوانح عمری۔

یلماز گونی (اصل نام: یلماز پوتون؛ پیدائش: یکم اپریل 1937، ینیجہ، اضنہ – وفات: 9 ستمبر 1984، پیرس)، اداکار، ہدایت کار، اسکرین رائٹر، پروڈیوسر، ایڈیٹر، مصنف اور شاعر تھے۔ ذرائع ان کی نسل کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں: ترک ویکیپیڈیا انہیں کرد اور زازا نژاد ترک فلم ساز کہتا ہے، جبکہ انگریزی اور فارسی ذرائع انہیں کرد ہدایت کار قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فلمیں ترکی زبان میں بنائیں؛ اپنے کاموں کو انہوں نے بائیں بازو کے نقطہ نظر سے محنت کشوں کی حالت اور کرد عوام، ان کی ثقافت اور زبان کی عکاسی کے لیے وقف کیا۔

انہوں نے انقرہ یونیورسٹی میں شروع کی گئی قانون کی تعلیم چھوڑ کر استنبول یونیورسٹی میں معاشیات پڑھی۔ 1959 میں انہوں نے اداکاری شروع کی۔ 1961 میں، انیس سال کی عمر میں لکھی گئی ایک کہانی میں کمیونسٹ پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں انہیں گرفتار کیا گیا؛ ترک ذرائع کے مطابق انہیں ڈیڑھ سال قید اور چھ ماہ جلاوطنی کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد وہ یشیل چام کے سب سے زیادہ کاروبار کرنے والے اداکاروں میں سے ایک بن گئے اور فلموں Çirkin Kral سے منسوب اسی لقب سے پہچانے جانے لگے۔

1966 میں انہوں نے At Avrat Silah کے ساتھ ہدایت کاری میں قدم رکھا؛ اگلے سال انہوں نے جس فلم کا اسکرین پلے لکھا اور جس میں اداکاری کی، Hudutların Kanunu، نمایاں ہوئی، اور 1968 میں انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کی۔ ترک ذرائع کے مطابق اس فلم کی شوٹنگ کے دوران شانلی اورفہ میں شراب کے زیر اثر گاڑی چلاتے ہوئے ان کے ہاتھوں ایک بچے کی موت واقع ہوئی۔ 1967 میں انہوں نے اداکارہ نباہت چہرہ سے شادی کی؛ ترک ذرائع کے مطابق اس ازدواجی رشتے میں تشدد کے واقعات پیش آئے، اور جوڑے نے 1968 میں گونی کے چہرہ پر گاڑی چڑھانے کے کچھ عرصے بعد طلاق لے لی۔ دو سال بعد انہوں نے فاتوش گونی سے شادی کی۔

ایڈونچر اور ایکشن فلموں سے آغاز کرنے والے گونی نے 1960 کی دہائی کے آخر سے سماجی اور سیاسی موضوعات کی طرف رخ کیا۔ اس سمت میں ان کا پہلا اہم کام، جس کی ہدایت کاری انہوں نے خود کی، Umut (1970) تھا؛ اس کے بعد Ağıt، Baba، Arkadaş اور Endişe آئیں۔ 1972 میں انہیں ترکی پیپلز لبریشن پارٹی-فرنٹ کے عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی، اور وہ 1974 کی عام معافی کے تحت رہا ہوئے۔

اسی سال، جب وہ Endişe کی شوٹنگ کے سلسلے میں اضنہ میں موجود تھے، انہیں جج صفا مطلو کے قتل کا مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ ترک ذرائع یہ قتل براہ راست ان سے منسوب کرتے ہیں؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق انہوں نے اس الزام کی تردید کی، جبکہ یونانی ذریعہ بتاتا ہے کہ یہ موت ایک جھگڑے کے بعد پیش آئی۔ سزا بھی مختلف بیان کی جاتی ہے: فیصلہ ترک اور جرمن ذرائع میں انیس سال جبکہ یونانی ذریعے میں چوبیس سال سے کم کرکے اٹھارہ سال بتایا گیا ہے۔ وہ جیل میں بھی لکھتے رہے؛ ان کے لکھے اسکرین پلے پر مبنی Sürü (1978) نے 1979 میں لوکارنو میں گولڈن لیپرڈ ایوارڈ جیتا، اور Düşman (1980) بھی اسی دور کے کاموں میں شامل ہے۔

12 ستمبر 1980 کی بغاوت کے بعد، 1981 میں اسپارتا سیمی اوپن جیل سے چھٹی پر نکلتے ہوئے وہ واپس نہیں آئے اور بیرون ملک فرار ہو کر فرانس میں آباد ہو گئے۔ ان کے لکھے، پروڈیوس اور ایڈیٹ کیے گئے، اور ان کے معاون شریف گورن کے فلمائے گئے Yol نے 1982 میں کان فلم فیسٹیول میں پالم دور ایوارڈ جیتا؛ فرانسیسی ذرائع کے مطابق یہ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا تھا۔ فرانس میں بنائی گئی Duvar (1983) ان کی آخری فلم تھی۔ 1983 میں انہیں ترک شہریت سے محروم کر دیا گیا؛ اسی سال انہوں نے کرد شاعروں جگرخوین اور عبدالرحمن شرفکندی کے ساتھ ملکر پیرس کرد انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔ اورخان کمال ناول ایوارڈ اور گولڈن اورنج ایوارڈز جیتنے والے گونی 9 ستمبر 1984 کو پیرس میں معدے کے سرطان سے، سینتالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ردعمل

فلموگرافی / پروجیکٹس

تبصرے (0)